Monday, 9 May 2022

Admissions Open For 2022-23

Admissions For the Academic Year of 2022-23 are Open Now in Madarsa Faizul Uloom.


Visit Facebook Page for More: MADARSA FAIZUL ULOOM

Tuesday, 15 March 2022

مدرسہ فیض العلوم مرزاپورپول میں دستار بندی وتقسیم انعامات کے موقع ایک عظیم الشان دینی اجلاس کا انعقاد

 مدرسہ فیض العلوم مرزاپورپول میں دستار بندی وتقسیم انعامات کے موقع ایک عظیم الشان دینی اجلاس کا انعقاد

 امت کے نونہال بچوں کو دینی وعصری دونوں تعلیمات سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت : مولانا ظہور صاحب


مؤرخہ 13 مارچ 2022 بروز اتوار کو مدرسہ فیض العلوم مرزاپور پول میں تکمیل کلام اللہ و مشکوۃ شریف اور دستار فضیلت و تقسیم انعامات کے موقع پر ایک عظیم الشان دینی اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مدرسہ کے مختلف شعبہ جات سےکل۱۳۸ ؍طلباء و طالبات کی دستارفضیلت ، انعامات و ٹرافی وغیرہ سے حوصلہ افزائی کی گئی ۔جلسہ کا آغازقرآن کریم کی تلاوت اور نعت نبی ؐسے کیا گیا۔مولانا طیب قاسمی ومولاناعبد الخالق مظاہری نے مشترکہ طور پر جلسہ کی نظامت کرتے ہوئے سامعینِ جلسہ کو سبھی مہمانوں کا تعارف کرایا،صدارت حضرت مولانا محمد سفیان صاحب( مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند )نے کی۔جس میں بنگلور ، دہلی، پنجاب، اتراکھنڈ اور دارالعلوم ومظاہرعلوم ،بشمول قرب وجوار کے علماء ومحدثین ،بزرگان دین اور دیگر افرادنےکثیر تعداد میں شرکت کی ۔ ۲۹ ؍طالبات کو قرآن کریم کی تکمیل حضر ت مولانا ظہور احمد (ضلعی صدر جمعیۃ علماء ہند)و حضرت الحاج الشاہ عتیق احمد صاحبان نے کرائی اور مولانا نے بیان کرتے وقت فرمایا کہ تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی زندگی قرآن اور حدیث کے مطابق گزاریں اور معاشرے میں موجود نشہ ،شراب،جُوا اور بد اخلاقی جیسے کاموں سے ہمیشہ پرہیز کریں، وہیںمولانا محمد سفیان صاحب نے مشکوٰۃ شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے فرمایا کہ فارغین طلباء کو اپنی زندگی قرآن وحدیث کے مطابق گزارنی چاہئے اور مسلم قوم کی نسل نوع کو تعلیم سے روشناس کرانا چاہئے ،اس کے علاوہ عد ل وانصاف اور پاک دامنی پر بھی زور دیا۔اور طلباء کو قرآن کریم کی تکمیل بوڑیہ سے تشریف لائے مولانا عبد الستار صاحب نے کرائی اور فرمایا کہ تمام مسلمانوں کو صبح وشام قرآن کریم کی تلاوت کرنی چاہئے نیز قرآن پڑھنے وپڑھانے والوں سے ہمیں محبت رکھنی چاہئے اور دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآن پڑھنے وپڑھانے والوں سے محبت رکھنے والوں کو اللہ پاک اپنے خاص انعامات سے نوازتا ہے۔ اسی طرح مولانامحمد محسن مدنی ( صاحبزادہ مولانا سید ارشد مدنی) نے ملک کی سالمیت کے لئے ملک سے محبت رکھنے پر زور دیتے ہوئے مجاہدین آزادی کی قربانیوں پر بھی روشنی ڈالی، اور فرمایا کہ ملک کو آزاد کرانے میں ہمارے علماء اکابرین نے نمایاں کردار ادا کیا ہے ، جلسہ میں مولانا عبد الرشید مہتمم مدرسہ فیضان رحیمی کا اخلاق حسنہ پر بیان ہوا، اور پروگرام اپنی رعنائیوں اور خوبصورت انداز میں پُر رونق محفل کے ساتھ جاری رہا۔ پروگرام کےکنوینر و ناظم مدرسہ قاری فیضان سرور مظاہری نے جملہ مہمانان عظام کا استقبال کیا اور مسابقہ تقاریر انجمن اصلاح الکلام اور تمام درجات میں پوزیشن لانے والے طلباء کو گراں قدر انعامات سے مولانا عبد المالک مغیثی (جامعہ رحمت گھگرولی)و ماسٹر غفران انجم (ڈائریکٹر نصرت الاسلام اکیڈمی ) ومولاناعبد الرؤف وقاری محمد انعام فیض آبادی کے ساتھ بچوں کی حوصلہ افزائی فرمائی، مدرسہ کےتمام اساتذہ ومکمل اسٹاف نے پوری محنت وجاںفشانی سے جلسہ کو خوبصور بنایا ۔اخیر میں مہمان خصوصی صدر جلسہ کی دعاء مستجاب پر مجلس کا اختتام ہوا ۔جلسہ میں شرکت کرنے والوں میں مفتی محمد طالب ندوی دہلوی، حاجی شمش الدین دہلوی ،مولانا خلیل احمد ،مولانا محمد اکبر (عثمان پور ڈھاکی)، مولانا عبد الرحمان قاسمی، مولانا محمد ربانی دہلی، مولانا عبد الغفاربوڑیہ ،مولانامحمد انوربندرجوڑ،قاری محمد رئیس رائپور، قاری محمد ہارون قاسم پور،قاری محمد سالم نانوں والا، قاری محمد فرید ٹملی،مولانا محمد بلال ٹملی،قاری فخر الدین جیونگڑھ، قاری محمد رضوان، قاری عبد الوہاب ،قاری محترم ،حاجی منور حسین دہلی، مولانا حسین احمدصدیقی(ضلعی کوآرڈنیٹر جمعیۃ اوپن اسکول)،حافظ اطهرراغب (مدرسه كوآرڈنیٹر جمعیۃ اوپن اسكول) قاری محمد عارف فیضی ، قاری محمد اظہر وغیرہ حضرات کے نام قابل ذکر ہیں۔

پروگرام دیكهنےكے لءے درج ذیل لنك پر كلك كریں
حضرت مولانا محمد محسن صاحب صاحبزاده حضرت مولانا سید ارشد مدنی(جعیۃ علماء هند)
حضرت مولانا محمد سفیان صاحب (مهتمم دارالعلوم وقف دیوبند)

Saturday, 25 December 2021

مدرسہ فیض العلوم مرزاپور پول میں استمداد باالغیر وعلم غیب باالغیر کے عنوان سے مجلس مناظرہ کا انعقاد

 مدرسہ فیض العلوم مرزاپور پول میں استمداد باالغیر وعلم غیب باالغیر کے عنوان سے مجلس مناظرہ کا انعقاد

آج بتاریخ ۲۲دسمبر ۲۰۲۱ء؁ بروز بدھ کو مرزاپورپول میں واقع مدرسہ فیض العلوم کی دارالحدیث میں ایک مجلس مناظرہ کا انعقاد کیا گیا ، جس میں استمداد باالغیر (غیراللہ سے مدد مانگنا) اور علم غیب باالغیر کے موضوع پر قرآن وحدیث کی روشنی میں مذاکرہ ومباحثہ کیا گیا، جس میں علماء ودانشوران نے شرکت کی اور قرآن و حدیث کی روشنی میں دلائل وشواھد سنے اورافادہ  و  استفادہ کیا مناظرہ کے منتظم قاری فیضان سرور مظاہری (ناظم مدرسہ ہٰذا) نے مجلس مناظرہ کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مجلس میں حصہ لینے والے تمام مساہمین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کو انعامات سے بھی نوازا، وہیں مولانا محمد طیب قاسمی کو صدر مجلس اور فریقین کے دلائل کو سننے کیلئے حکم کے طور پر مولانا عبد الخالق مظاہری کو منتخب کیا گیا اور مناظرہ کے اختتام پر مولانا نے علم غیب اور استمداد باالغیر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علم غیب اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی نبی یا رسول کو نہیں تھا بلکہ انبیاء ورسل کے پاس جو علم تھا اس کو اطلاع الغیب ،اخبار الغیب، انباء الغیب کہتے ہیں نیز مولانا نے بتلایا کہ انبیاء اور رسل بھی اپنی حاجتوں وضرورتوں کا سوال صرف اللہ ہی سے کرتے تھے اسلئے ہمیں صرف اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہئے غیر اللہ سے نہیں اور دلیل کے طور پر قرآن وحدیث کو پیش کرتے ہوئے اپنی بات کو مکمل کیا مجلس مناظرہ میں مولانا محمد برہان جامعی کے خطاب کے بعد مفتی محمد افضال کی دعاء پر پروگرام کا اختتام کیا گیا، پروگرام میں شرکت کرنے والوں میں مفتی عبد الواجد قاسمی، قاری محمد اطہر ، حافظ محمد سلیمان،قاری محمد ہارون، حاجی محمد ہاشم، حافظ اطہر راغب(مدرسہ کوآرڈینیٹر جمعیۃ اوپن اسکول )،قاری عارف فیضی،ماسٹر عبد الرحمان پیراگپوری، ماسٹر محمد ثاقب، مولوی محمد ذکی اللہ وغیرہ حضرات کے نام قابل ذکر ہیں۔

Thursday, 25 November 2021

سابق ناظم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے اوصاف حمیدہ

 سابق ناظم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے اوصاف حمیدہ

الحمدللّٰہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین الصطفیٰ ۔اما بعد

  گلشن آپ کی یادوں کا مہکتا ہی رہیگا آتی رہیگی آپ کے انفاس کی خوشبو 

حضرات ! دنیا میں بہت سی ہستیاں محتاج تعارف نہیں ہوا کرتی ہیں لیکن وہ اپنی قوم میں بے مثال اور نمونہ ہواکرتی ہیں انہیں ہستیوں میں سے ایک ہستی اور ہے جن پر زمانہ رشک کرتا ہے جس کا نام لینے سے زبان پر بشاشت اور دلوں میں قوت روحانی پیدا ہوتی ہے اوروہ ہستی وہ ہےجو ہم سب کے مرشد ومربی ہم سب کے روح رواں جناب حضرت مولانامحمد سعید احمد مظاہری نوراللہ مرقدہٗ ہے حضرت نے تقریباً ۵۵/سال مدرسہ فیض العلوم کو گلشن بنانے میں صرف کر دئے تھے حضرت استاذوں کی محبت کو اپنے دل میں سموئے ہوئے تھے اور مدرسہ فیض العلوم کی بلندی کی کڈھن کو اپنے دل میں چبھائے ہوئے تھے اور حضرت بچوں کے درد کا دم بھرنے والے اور حضرت کی زبان پر ہر وقت ذکر الٰہی اور دل میں خوف خدا رہتا تھا اور حضرت نے مدرسہ فیض العلوم میں اس طریقہ سے خدمت انجام دی کہ زمانہ آج بھی آپ کی تاریخ لکھنے پر مجبور ہوجائیگا لیکن کیا کریں قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد فرمایا اذاجا ء اجلھم فلایستأخرون ساعتاًولایسقدمون ۔ترجمہ : جب تمہارا وقت متعین ہوجائیگا تو تم ایک گھڑی نہ آگے جاسکو گے اور نہ ایک گھڑی پیچھے رہ سکوگے تو اسی مولاکے فرمان کے تحت پیغام اجل آپہنچا،اور حضرت ہم سب کو ۲۱/رمضان المبارک ۱۴۴۰؁ھ بروز پیر بعد ظہر اس دارفانی سے دار بقاء کی طرف چلے گئے اور ہم سب کو ہمیشہ کیلئے یتیم کرکے چلے گئے۔ 

 مدتوں کاٹ کر بیماری میں وہ کن فکاں چلاگیا    ہم سب کو یتیم کرکے وہ جلوہ نماچلاگیا    

اللہ پاک نے حضرت کو بچپن ہی سے عادت و اخلاق کا خوگر بنایاتھا مصائب وشدائد رنج والم کے میدان صبر تحمل ثبات قدمی اور بلند ہمتی سے کام لینا آپکا طرۂ امتیاز تھا آپ کی عادت شریفہ بچپن ہی سے متنازع امور سے دور رہے کی تھی آپ کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے علم وعمل کا خزینہ ودیعت فرمادیا تھا اللہ تعالیٰ نے آپ کو فراست ایمانی کا حصہ بھرپور عطا فرمایا تھا صبر وتحمل آپ کی اصاف جلیلہ میں سے ممتاز کی حیثیت رکھتا تھا امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کا طرہ امتیاز تھا اسی طرف حضرت کی زندگی گلشن فیض العلوم وطالبان علوم نبوت کیلئے بیاباں کی طرح تھی حضرت بڑے خوش مزاج اور بہترین کلام تھے وضع داری آپ کے چہرے میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی آنے والے سے جب ملاقات کرتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ اس کو پہلے جانتے ہیں اور جب حضرت کسی سے کلام کرتے تو ایسا محسوس ہوتا گویا آپ کے منہ سے مشک کی خوشبو پھوٹ رہی ہو ویسےحضرت کے اوصاف حمیدہ لکھنے کیلئے دفاتیر چاہئیں لیکن میں اپنی بات کو اس شعرپر ختم کرتا ہوں۔

سوچا تھا لکھوں گا آپ کے نام پہ ایک غزل        ہائے افسوس آپ کے معیار کے الفاظ ہی نہ ملے

ازقلم : محمد طالب متعلم مدرسہ فیض العلوم مرزاپور پول

Published By: ATHAR RAGHIB

Friday, 30 July 2021

Introduction Madrasa Faizul Uloom

 


Introduction

There is no doubt that history of Islamic institutes is bright and brilliant. These institutions are the herald of Islamic law and the successors and protectors of The Seal-of-Prophecy (SAWS), the Holy Quran and the narrations of Prophet (SAWS) and their achievements are golden chapter of our educational, religious and cultural history.

Importance of Islamic institutions in this mischievous time is not hidden from any wise and literate person. It is also recorded in history that how much sacrifices were presented by Islamic scholars and jurists for the revival of Islam. Any part of the earth, where Islamic institutions and Muslim scholars are present, Islam was safeguarded from religious apostasy, atheism and irreligiousness. In our democratic India, credit goes to Islamic institutions for strengthening Islamic fundamentals.

But alas, there was a time when this garden was severely deserted. In 1947 during tumultuous days of partition, many Muslim scholars were martyred, thousand were jailed and uncountable Islamic institutions were destroyed due to which remaining Muslim population converted from Islam and its culture and lost their identity. In these circumstances, some concerned and philanthropic people are trying to repopulate these destroyed gardens and they started establishing Madrasas and Maktib in each and every city and village as well as re-establishing Masjid and building new ones. Now Tableeghi Jamaats have stared visiting these areas and because of the efforts of Muslim scholars signs of renaissance can be seen in most of the places.

Madrasa Faiz-ul-uloom, Mirzapur Pole is also among those great efforts. This Islamic institution is located on the border of Uttar Pradesh, Haryana, Punjab, Himachal Pradesh and Uttarakhnad at the foot of Shivalik Mountain imparting Islamic education and its training and propagation in the remote village of Saharanpur. This institute was founded by His Excellency Hadhrat Maulana Shah Abdur Raheem Sahab Raipuri (RA) and its revival was done by His Excellency Hadhrat Maulana Muhammad Zakariya Sahab Muhajir Madani (RA), he was its guardian and patron till he passed away, since then his son Hadhrat Maulana Muhammad Talha Sahab and Hadhrat Maulana Muhammad Salman Sahab, rector of Mazahir-ul-uloom Saharanpur are guardians and patrons of this institute, they visit and lend their support, give precious advices and attend the advisory committee meeting even though they have busy schedules.

May Allah (SWT) lengthen their lives

Alhamdulillah, in this tumultuous time this institute is spreading establishment of truth and falsification of false. This institute is center for purely religious and spiritual education, students from many parts of the country are learning Holy Quran, Islamic teaching and modern education with total dedication. This institute has various subject and fields since its establishment.

May Allah (SWT) give it prosperity.
#atharraghib

Admissions Open For 2022-23

Admissions For the Academic Year of 2022-23 are Open Now in Madarsa Faizul Uloom. Visit Facebook Page for More:  MADARSA FAIZUL ULOOM